نئی دہلی، یکم جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) ریلوے سیکورٹی فورس (آرپی ایف) کی طاقت اب بڑھے گی۔آر پی ایف ابھی کمانڈو تیار کرنے میں مصروف ہے۔گزشتہ چار ماہ سے ہریانہ کے جگادھری میں کمانڈو کی ٹریننگ چل رہی ہے۔ٹریننگ مکمل ہونے کے بعد کمانڈوز کو جدید ہتھیاروں سے لیس کیا جائے گا۔آر پی ایف کی کوشش ہے کہ اپنے پاس کافی کمانڈ رہیں، جس سے حساس مقامات پر سیکورٹی کے سخت چیلنجوں سے نمٹاجا سکے۔آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل، ارون کمار نے بات چیت میں بتایا کہ ٹریننگ مکمل ہونے کے بعد ان کمانڈوز کو نکسل متاثرہ علاقوں سمیت شمال مشرقی اور جموں و کشمیر وغیرہ حصوں میں تعینات کیا جائے گا،جہاں ریلوے کے نئے بن رہے تمام پروجیکٹ کی حفاظت کا ذمہ اس خصوصی تحفظ ٹیم پرہوگا۔کمانڈوز کو بلٹ پروف جیکٹ، جدید ہتھیار سمیت ہر وہ ہتھیار اور دیگر سامان ملیں گے، جو ضروری ہوتے ہیں۔ارون کمار کے مطابق اچھی تعداد میں کمانڈوز ہونے سے آر پی ایف کی صلاحیت اور بڑھے گی۔ملک کے بہترین سیکورٹی فورسز میں شمار آر پی ایف کی بطور ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) کمان سنبھال رہے ارون کمار انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) کے لئے نشان راہ افسر رہے ہیں۔ریلوے سیکورٹی فورس کے ڈائریکٹر جنرل کی کمان سنبھالنے سے پہلے وہ بی ایس ایف میں رہے۔1985 بیچ کے آئی پی ایس ارون کمار کاشمار یوپی کیڈر کے تیزطرار آئی پی ایس افسروں میں ہوتا ہے۔کافی عرصے سے وہ مرکز میں ڈیپوٹیشن پر ہیں۔یہ ارون کمار ہی تھے، جنہوں نے آروشی ہیمراج قتل میں سی بی آئی میں رہتے سب سے پہلے انکوائری کا ذمہ سنبھالا تھا۔یہی نہیں اتر پردیش میں ایس ٹی ایف کی تنصیب بھی ان کے وقت ہی ہوئی،وہ ایس ٹی ایف کے پہلے ایس ایس پی رہے،تب 1998 میں ان کی ٹیم نے صوبے میں دہشت گردی کی علامت بنے بدنام زمانہ بدمعاش شری پرکاش شکلا کو مار گرایا تھا۔آر پی ایف ایکٹ، 1957 کے تحت قائم ریلوے سیکورٹی فورس ایک طرح سے یہ حکومت، ریلوے محکمہ، مقامی پولیس اور عوام کے درمیان ایک پل کا کام کرتا ہے۔مجرموں کی دھر گرفت میں مقامی پولیس کی بھی مدد کرتا ہے۔اس کا بنیادی کام ملک میں ریل مسافروں کی سیکورٹی، انڈین ریلوے کی املاک کی حفاظت اور ملک مخالف سرگرمیوں میں ریلوے سامان کے استعمال کی نگرانی رکھنا ہے۔یہ پیراگراف ملٹری فورس کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔قصورواروں کو گرفتار کرنے، تفتیش کرنے اور مجرموں کے خلاف مقدمہ چلانے کا حق ہوتا ہے۔ریلوے ایکٹ، 1989 کے تحت بعد میں ریلوے سیکورٹی فورس کو اور طاقتور بنایا گیا،جس کے بعد سے چین کھینچنا، چھتوں پر سفر، غیر مجاز طور پر کوچ میں داخل ہونا وغیرہ پر کارروائی کا اختیار دیا گیا، اب اس فورس کی بٹالین سے تیزطررار جوانوں کو کمانڈو کے طور پر بھی تیار کیا جانے لگا ہے۔